لندن، 11؍ ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد برطانیہ کی حکمرانی فوری طور پر ازخود بغیر کسی تقریب کے ان کے جانشین اور سابق پرنس آف ویلز چارلس کو منتقل ہوگئی تاہم اب انہیں باقاعدہ سرکاری طور پر بادشاہ قرار دے دیا گیا ہے۔چارلس سوم نے برطانیہ کے بادشاہ کا حلف اٹھالیا,کنگ چارلس نے حلف نامے پردستخط کردیے، انہوں نے باقاعدہ طور پر بادشاہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں، کنگ چارلس نے روایت کی پاسداری کے عزم کو برقرار رکھنے کا اعادہ بھی کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق والدہ کی وفات کے بعد سرکاری طور پر ان کے صاحبزادے چارلس کی بادشاہت کے اعلان کی تقریب لندن کے سینٹ جیمز پیلس میں ایک روایتی کمیٹی کے سامنے منعقد ہوئی جس میں سرکاری طور پر ان کی بادشاہت کا اعلان کیا گیا۔ولیم دا کنکرر وہاں تاج پہننے والے پہلے بادشاہ تھے جبکہ چارلس ایسا کرنے والے 40ویں بادشاہ ہیں۔
یہ ایک اینگلیکن مذہبی تقریب ہے جسے آرچ بشپ آف کنٹربری سرانجام دیتے ہیں جو سینٹ ایڈورڈ کا تاج بادشاہ کے سر پر رکھتے ہیں، ٹھوس سونے کا یہ تاج 1661 میں تیار کیا گیا تھا۔تقریباً سوا دو کلو وزنی یہ تاج ٹاور آف لندن میں رکھے گئے شاہی جواہرات اور زیورات کا حصہ ہے اور اسے کوئی بھی بادشاہ صرف اپنی تاجپوشی کے وقت ہی پہنتا ہے۔شاہی شادیوں کے برعکس تخت نشینی ایک سرکاری تقریب ہوتی ہے، اس کے اخراجات حکومت ادا کرتی ہے اور وہی مہمانوں کی فہرست بھی مرتب کرتی ہے۔